Friday, November 30, 2018

وزیر زراعت کے پاس وقت ہی نہیں



وزیر زراعت کے پاس وقت ہی نہیں 
سندھ نامہ سہیل سانگی
روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ سندھ زرعی صوبہ ہے ۔ یہاں کی بڑی آبادی کا انحصار زراعت پر ہے ۔ اس کے باوجود حکومت سندھ کی زراعت کے بارے میں سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ سندھ شگر کین پورڈ تشکیل دے ید اگیا ہے لیکن وزری زراعت کے پاس اس سنجیدہ اور حساس مسئلے پر توجہ دینے کے لئے وقت ہی نہیں کہ وہ بورڈ کا اجلاس طلب کر کے گنے کی سرکاری قیمت کا تعین کرے۔ وفاقی حکومت بھی 15 نومبر تک گنے کی پسائی شروع کرانے کا وعدہ بھول گئی ہے۔ وزیر زراعت کا یہ بیان رپورٹ ہوا ہے کہ کاشتکاروں کا نقصان نہیں ہونے دیا جائے گا۔ 30 نومربر سے پہلے گنے کی قیمت مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔ 
سندھ کی زراعت کو درپیش مسائل میں سے اکثر کا تعلق گورننس سے ہے۔ حوکمت سندھ نے زراعت کے بحرانوں کو کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ان بحرانوں میں ایک اہم بحران اور مسئلہ گنے کی وقت پر خریداری اور قیمت کے تعین کا ہے۔ یہ کوئی ادیک دو سال کا قصہ نہیں۔ برسہا برس سے یہ مسئلہ چل رہا ہے ۔ نہ صوبائی حکومت وقت پر گنے کی قیمت مقرر کرپاتی ہے اور نہ ہی یہ مقررہ قیمت کاشتکاروں کو دلانے کے لئے شگرملوں پر دباؤ ڈال پاتی ہے۔ گنے کے کاشتکاروں اور شگر ملوں کے درمیان یہ کشیدگی گنے کی سیزن سے شروع ہوتی ہے، اس میں یہی نظر آتا ہے کہ حکومت شگر ملز کی طرف کھڑی ہے ۔ رواں سال اگرچہ یہ کہا گیا تھا کہ 30نومبر تک شگر ملز چالو ہو جائیں گی، لیکن اب حکومت نے اپنے موقف میں یو ٹرن لیا ہے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ 30 نومبر تک گنے کی قیمت کا نوٹیفکیشن جاری رکدیا جائے گا۔ شگر ملز کب گنے کی خریادری اور پسائی شروع کرائین گی؟ اس کا فسانے میں ذکر نہیں۔ وزیرزراعت کہتنے کو تو کہتے ہیں کہ کاشتکاروں کا کوئی نقصانے ہونے نہیں دیا جائے گا۔ لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ گنا سوکھ رہا ہے۔ گندم کی بوائی میں دیر ہورہی ہے۔ کیونکہ گنے کی فصل ابھی تک کھڑی ہے۔ اور زمین خالی نہیں ہوئی ہے۔ کیا یہ کاشتکاروں کا نقصان نہیں؟ کیا وزیر زراعت بتائیں گے کہ گنے کی کٹائی میں دیر سے کس کا نقصان ہو رہا ہے؟ فرض کر لیتے ہیں کہ گنے کی قیمت 30نومرب کو مقرر کردی جاتی ہے۔ اصل مسئلہ شگر ملز کی چمنیاں جلانا ہے۔ گنے کی پسائی شروع کرنے سے ایک ہفتہ پہلے شگر مل کی چمنی جلائی جای ہے۔ لگتا ہے کہ دسمبر کا مہینہ بھی اس کشیدگی میں گزر جائے گا۔ گنے کی سیزن جو اکتوبر میں شروع ہونی تھی وہ جنوری میں شروع ہوپائے گی۔ یوں گنے کی پسائی تین ماہ آگے چلی جائے گی۔ صوبائی حکومت ہر سال پاسما کے سامنے بے بس رہتی ہے۔ وقت پر گنے کی پسائی دور کی بات کاشتکاروں کو سرکاری طور پر مقرر گنے کی قیمت کی ادائیگی بھی نہیں ہوتی۔ اگرچہ پنجاب میں گنے کی قیمت 180 راپے فی من مقرر کرنے کے بعد 30نومبر سے پسائی شروع کرنے کا نوٹیفکیشن دو ہفتے قبل جاری کردیا گیا ہے۔ لیکن حکومت سندھ گنے سے پہلے کاشتکاروں کی پسائی کر رہی ہے۔ کاشتکاروں کی دوسری پسای گنے کی سرکاری طور پر مقرر قیمت کی ادائیگی میں رکاوٹیں ڈالنے اور بقایاجات کی عدم ادائیگی کی صورت میں کی جائے گی۔ ایسے میں وفاقی حکومت کا چاروں صوبوں میں گنے کی پسائی 15 نومبر تک شروع کرانے سے متعلق بیان نمائشی لگتا ہے۔ 
روزنامہپ کاوش لکھتا ہے کہ عالمی بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد غریب دیہات میں رہتے ہیں۔جہاں کے رہائشی شہری علاقوں کے مقابلے میں غریب ترین اور تقریبا تمام سہولیات سے محروم ہیں۔ تمام تر کوششوں کے باوجود شہری اور دیہی علاقوں میں یہ فرق کم نہیں کیا جاسکا ہے۔ ’’اسٹیٹ آف واٹر اینڈ سنیٹیشن اینڈ پاورٹی ان پاکستان‘‘ کے نام سے شایع ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں غربت سے سے زیاہد ہے جہاں یہ ساٹھ فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارتی ہے۔ دوسرے نمبر پر سندھ ہے۔جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں صورتحال قدرے بہتر ہے۔ 
روزنامہ عبرت لکھتا ہے کہ دنیا کے بعض دیگر ممالک کی کی طرح پاکستان میں بھی مالیاتی اداروں، حکومتی اخراجات ، کرپشن کی وجہ سے غربت اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں تک کہ بعض لوگوں کے لئے ایک وقت کا کھانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ پاکستان پہلے ہی غریب ملک ہے اوراس کی معیشت مختلف اتار چڑھاؤ کی وجہ سے عدم استحکام کا شکار ہے۔ ناکام اقتصادی پالیسیاں بھی غربت میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔ خاص طور پر سندھ اور بلوچستان مین غریب عوام ابتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ بھی ہوتا رہا ہے کہ طاقتور طبقے نے اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے قرضے لئے۔ بعد میں یہ قرضے معاف کرانے کے لئے پارلیمنٹ کا سہارا لیا۔ نتیجے میں عوام پر اربوں روپے معاشی بوجھ پڑا۔ ادراوں کی کارکردگی، عوام سے وصول کئے گئے ٹیکس کا غلط استعمال ، حکمرانوں کی جانب سے لوٹی ہوئی دولت بیرون ملک میں لے جانے کی وجہ سے بھی دور دراز علاقوں میں ترقی نہ ہو سکی۔ طاقتور اور بالادست طبقے کے حق میں ملک کی اقتصادی پالیسیاں بنانا غربت کی اصل بنیاد ہے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ حکمران طبقات اور تمام ادارے آپس میں ہم آہنگی پیدا کر کے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کریں ۔ دہی خواہ شہری علاقوں میں بلاتفریق غربت کے خاتمے کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں کہ کچھ خوشھالی اور خوشی غریبوں کے حصے میں بھی آئے۔ 
روزنامہ سندھ ایکسپریس کے کالم نگار اعجاز منگی لکھتے ہیں کہ چاروں صوبوں میں تشکیل دی گئی فوڈ اتھارٹیز خواتین کے حوالے کی جائیں۔ کراچی میں ایک ہوٹل میں زہریلا کھانا کھانے کے بعد دو بچوں کی فوتگی کا حوالہ دیتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ یہ وہ دور نہیں جب انسان جینے کے لئے کھاتا تھا۔ اب یہ دور ہے کہ انسان کھانے کے لئے جیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں فوڈ ایک بہت بڑی انڈسٹری ہے۔ اگرچہ فیشن کی بھی بہت بڑی مارکیت ہے لیکن فوڈ کی اس سے بڑھ کر مارکیٹ ہے۔ کھانا ہر عمر اور جنس کے شخص کو چاہئے۔ کھانے کی دنیا بہت وسیع ہے جس سے کئی معاشی، سیاسی اور معاشرتی مسائل منسلک ہو گئے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کھانا بنایدی طور پر خواتین کی ذمہ داریوں میں آتا ہے۔ اس لئے اگر فوڈ انڈسٹریز خواتین کے حوالے کی جاےئیں گی تو غذائیت کی کمی خواہ غیر معاری کھانے وغیرہ کے مسائل کو اچھی طرح سے نمٹا جاسکے گا۔ 
Sindh Nama, Nai Baat, Sohail Sangi
16 نومبر 2018 2018-11-16
https://www.naibaat.pk/16-Nov-2018/18750

Thursday, October 11, 2018

سندھ: ربیع کے موسم میں پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے

05-Oct-2018
گزشتہ ہفتے سندھ میں مختلف سرگرمیاں سامنے آئی ہیں جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے وقت میں صورت حال اور کچھ ماحول تبدیل ہوگا۔ گزشتہ تین سال سے سندھ کے کاشتکار گنے کی بروقت کٹائی اور قیمت صحیح نہ ملنے کے خلاف احتجاج کرتے رہے۔ لیکن سندھ حکومت نے ان کی ایک بھی نہ سنی۔ بعد میں سندھ حکومت نے شوگرملز کو سبسڈی دی، جس کے ذریعے کاشتکاروں کو معمولی ریلیف ملا۔ اب شوگر ملز کا موسم دوبارہ شروع ہونے والا ہے۔ منی لانڈرنگ کیس کی تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی نے اومنی گروپ کی 13 شوگر ملز کو سال 2013ء سے 2017ء تک دی گئی سبسڈی کیتفصیلات طلب کر لی ہیں۔ شوگر ملز کو ڈھائی ارب روپے کی سبسڈی دینے کے بعد مزید ڈیڑھ ارب روپے کی سبسڈی دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ شوگر ملزکے حوالے سے واٹر کمیشن نے گنے کا سیزن شروع ہونے سے پہلے شوگر ملز کو ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کی ہدایت کی ہے۔ کراچی میں صفائی کا معاملہ شہریوں کے لئے وبال جان بنا ہوا ہے۔ اس ضمن میں کراچی میونسپل اور نہ سندھ حکومت کوئی موثر اقدامات کر سکی۔ بعد میں ایک چینی کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا لیکن اس کی کارکردگی بھی متاثر کن نہیں رہی۔ کمپنی نے بعض رکاوٹوں کی نشاندہی کی ہے ۔ واٹرکمیشن نے چینی کمپنی کے مطالبے پر دس روز کے اندر کراچی میں صفائی کے لئے مطلوبہ مشینری اور ملازموں کی کمی پوری کرنے اور چینی افسران کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ کراچی میں واٹر بورڈ اور کے ایم سی کی پانچ ارب روپے مالیت کی زمین چائنا کٹنگ کے ذریعے سیاسی کارکنوں اور دیگر افراد کو الاٹ کرنے کی تحقیقات تیز ہو گئی۔ کراچیکے سابق میئر اور پا ک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کو ایک سوالنامہ بھیج کر زمین کی الاٹمنٹ کے بارے میں پوچھا گیا ہے کہ فلاحی مقاصد کےلئے مخصوص کی گئی زمین 7 ہزار افراد کو کس قانون کے تحت الاٹ کی گئی؟ اینٹی کرپشن کے سامنے سابق میئر اور 12 افسران نے بیانات ریکارڈ کرائے ہیں۔ حیدرآباد ریونیو آفس میں سندھ بورڈ آف ریونیو کے 7ممبران گزشتہ 15 برسوں سے نہیں بیٹھ رہے ہیں جس کی وجہ سے زمین سے متعلق ہزاروں معاملات
اور مقدمات حل نہیں ہو سکے ہیں۔پورٹ قاسم کے ملازمین ایک ہفتے سے احتجاج پر ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں تین ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔ تھر میں قحط کے متاثرین کی امدادی کاروائیاں شروع تو کی ہیں لیکن امدادی گندم کی تقسیم کا مرکز تحصیل ہید کوارٹر رکھنے کی وجہ سے مستحقین کی وہاں تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔ کئی دیہات تحصیل ہیڈکوارٹرز سے ڈیڑھ سو میل کے فاصلے پر ہیں۔
ربیع کے موسم میں سندھ کو کم پانی ملنے کی اطلاعات کے بعد سندھ کے تمام اخبارات نے اس موضوع پر اداریے اور مضامین لکھے ہیں۔ ’’کیا سندھ ربیع میںبھی پیاسا رہے گا؟‘‘ کے عنوان سے ’’روزنامہ سندھ ایکسپریس‘‘ لکھتا ہے کہ وفاق اور چھوٹے صوبوں کے درمیان معاملات ماضی میں بھی زیادہ مثبت نہیں رہے ہیں لیکن جب سے تحریک انصاف حکومت میں آئی ہے، تب سے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آخر وفاقی حکومت کرنا کیا چاہتی ہے؟ ملکی ترقی اور خوشحالی کے نام پر تحریک انصاف کی حکومت نے جو پالیسیاں اختیار کی ہیں، وہ براہ راست صوبائی حقوق سے متصادم ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ وفاق صوبوں کی بات سننے کے لئے بھی تیار نہیں۔ سندھ تمام صوبوں سے زیادہ کما کر دیتا ہے لیکن اس کے حصے میں کم رقومات آتی ہیں۔ سندھ کو پانی میں بھی جائز اور قانونی طور پر مانا ہوا حصہ نہیں دیا جارہا ہے۔ پانی کی تقسیم میں سندھ کو خریف کی موسم کے دوران شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ اب یہ اشارے مل رہے ہیں کہ ربیع کے موسم کے دوران بھی سندھ کو کم پانی ملے گا۔ وفاقی حکومت کے عزائم بتاتے ہیں کہ وہ کسی بھی معاہدے اور قانون کا احترام کرنا نہیں چاہتی۔ صوبائی وزیر زراعت کا کہنا ہے کہ وفاق کی جانب سے سندھ کے حصے کا پانی کم کرنے کے فیصلے کو ہم مسترد کرتے ہیں کیونکہ 91 کےمعاہدے کے تحت سندھ کو پانی نہ دینا اس صوبے کو بنجر بنانے کی سازش ہے۔صوبائی وزیر زراعت نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ’ ربیع میں سندھ کو اسکے حصہ کا پانی نہ ملنے کی صورت میں صوبے کی فصلیں تباہ ہو جائیں گی۔ مزید یہ کہ پنجاب کو حصے سے زیادہ پانی دینے کی صورت میں وفاقی حکومت کیکارکردگی اور رویہ کا بھی پتہ چلتا ہے۔ وزیر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈاؤن سٹریم کوٹری پانی نہیں چھوڑا گیا تو ساحلی پٹی کی مزید زمینیں سمندر برد ہو جائیں گی۔ وہ کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت سندھ کے لوگوں سے کالاباغ ڈیم کی مخالفت اور حکمران جماعت کو ووٹ نہ دینے کا بدلہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اس وجہ سے ان صوبوں کی جانب سے سندھ کو پانی دینے کی مخالفت کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھایا جائے گا۔ ہم صوبائی وزیر زراعت کے اس موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ جنہوں نے اپنے صوبے کے حقوقکے لئے آواز اٹھانے کا عزم کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صوبائی حکومت بھی یہی موقف اختیار کرے گی اور سندھ میں ربیع کے موسم میں پانی کی فراہمی کویقینی بنائے گی۔
روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ سندھ اور پنجاب کے بارڈر پر ایک بار پھر ڈاکوؤں کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اوباوڑو تحصیل کے کھنبڑا پولیس حدود میں ایک کسان کے اغوا کی کوشش پر مزاحمت کے دوران مشتاق شر کی ہلاکت سے گھوٹکی ضلع میں امن کی فاختہ اڑ گئی۔ گزشتہ چند ماہ سے اوباوڑو کے کچے کےعلاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن کے بارے میں مختلف سوالات اٹھائے جارہے تھے۔ گاؤں پنہوں خان مزار ی کے قریب زمیندار اپنے کسانوں کے ساتھ زمینوں کو پانی دے رہے تھے کہ مسلح افراد نے ان پر حملہ کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکو واردات کے بعد راؤنتی کی طرف چلے گئے جہاں پر ماضی میں ڈاکو سلطان شر اور دیگر ڈاکوؤں کے ٹھکانے تھے۔ راؤنی اور ماچھکو کے علاقے پس میں ملتے ہیں۔ ماچھکو پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی حدمیں ہے۔ اکثر ماچھکو اور راؤنتی کی حدود میں دونوں صوبوں کے ڈاکو مشترکہ کارروائیاں بھی کرتے ہیں۔ سندھ پولیس جب آپریشن کرتی ہے تو ڈاکو پنجاب کیطرف چلے جاتے ہیں۔ ماضی میں گھوٹکی، کندھکوٹ اور رھیم یار خان اضلاع میں مشترکہ اور بیک وقت بھی آپریشن کے گئے تھے۔ حالیہ وارداتوں سے لگتا ہے کہ یہ علاقہ تاحال کلی طور پر ڈاکوؤں سے صاف نہیں ہو سکا۔ کئی برسوں بعد اغوا کی واردات نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ گزشتہ روز کوش برادریکے لوگون نے کراچی پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا اور کہا تھا کہ ڈاکو سلطان شر دوبارہ سرگرم ہو گیا ہے اور اس نے وارداتیں شروع کردی ہیں۔
https://www.naibaat.pk/05-Oct-2018/17483

سندھی کو بطور لازمی مضمون پڑھانے کی ہدایت


سندھ نامہ سہیل سانگی

سندھی میڈیا میں ڈٰیموں کی تعمیر، غیر ملکیوں کو قومی شناختی کارڈ کا اجراء کا اعلان، پانی کی قلت، بجٹ، اور تحریک انصاف حکومت کے فیصلے مجموعی طور موضوع بحث ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کے معاملات پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ روزنامہ عبرت لکتا ہے کہ محکمہ تعلیم سندھ نے صوبے کے تمام نجی تعلیمی اداروں میں سندھی مضمون کو لازمی پڑھانے کی ہدایت کرتے ہوئے تجربیکار اساتذہ مقرر کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ صوبائی وزیر تعلیم سید سرادر علی شاہ کی ان ہدایات کے بعد ڈائریکٹرجنرل پرائیونٹ اسکولز نے خط لکھ کر نجی اسکولوں کی انتظامیہ کو صوبائی وزیرا ور سیکریٹری کی ہدایات سے آگاہ کردیا ہے کہ ان ہدایات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ دنیا میں ہر قوم کو اپنی زبان اور ثقافت سے لگاؤ ہونا فطری عمل ہے۔ اسی طرح سے سندھ کے لوگ بھی اپنی زبان سے محبت رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی زبان ترقی کرے۔ جب بھی ان کی زبان پر وار ہوا ہے اس کی وارث قوم نے ہر فورم پر اس کی مذمت اور مخالفت کی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ تقسیم ہند کے بعد سندھ زبان نے اپنے تحفظ اور بقا کے لئے کئی مشکلات برداشت کی ہیں۔ جس کے سندھی زبان پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ قیام پاکستان سے تقریبا ایک سو سال پہلے تک سندھی زبان سندھ کے اسکولوں، کالجوں میں لازمی پڑھائی جاتی تھی اور سرکاری دفاتر اور عدالتوں میں استعمال کی جاتی تھی۔ بدقسمتی سے سندھی کے ساتھ تعصب رکھنے والنے والے بعض حلقوں نے خاص طور پر ون یونٹ کے قیام کے بعد سندھی بطور دفتری زابن کی حیثیت ختم کردی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ ندھی زبان کی حیثیت اور اہمیت کے پیش نظر اس کی ترقی اور فروغ کے لئے اقدامات کئے جاتے۔ لیکن فیصلے اس کے برعکس ہوتے رہے۔ سندھی زبان اور اس کے بولنے والوں سے ناانصافی کی گئی۔ ماضی کے حکمرانوں کے غلط فیصلوں کے متعصبانہ فیصلوں کا خمیازہ سندھ کے لوگ ابھی تک بھگت رہے ہیں۔
سندھی زبان کویہ اعزار حاصل ہے کہ یہ اس خطے میں قدیم بولی اور لکھی جانے والی زبان ہے۔ تاریخ کے اوراق بھی اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ جب انگریزوں نے برصغیر پر قبضہ کیا ، اس وقت سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان سندھی تھی۔ اس حقیقت نے انگریزوں کو مجبور کیا کہ سندھی کو سرکاری زبان کے طور پر تسلیم کریں اور رائج کریں۔ اس مقصد کے لئے نہ صرف سندھی پڑھے اور لکھنے کے لئے درسگاہیں قائم کی گئیں بلکہ سندھ میں تعینات انگریز افسران کے لئے لازمی قرار دیا گیا کہ وہ سندھی سیکھیں۔لیکن انگریزوں کے جانے کے بعد حکمرانوں نے سندھی کی حیثیت بھلا دی۔
ماضی میں کئی مرتبہ تمام نجی اسکولوں میں سندھی لازمی طور پر پڑھانے کے حکمنامے جاری ہوتے رہے، لیکن نجی اسکولوں کی مافیا اتنی مضبوط ہے کہ ان حکمناموں پر عمل درآمد نہیں ہونے دیا۔ اب ایک بار پھر وزیرتعلیم سید سردار علی شاہ نے سندھی کو بطور لازمی مضمون پڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ اس موقع پر ہم وزیر موصوف کے نوٹس میں یہ بات لانا چاہیں گے کہ کراچی میں جو بچے اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں انہیں سندھ زبان کے الف بے کا بھی پتہ نہیں۔ اس صورت میں یہ کیسے ممکن ہوگا کہ اس میٹروپولیٹن شہر میں جہاں ہزارہا نجی اسکول موجود ہیں ج کہ سندھی لازمی پڑھانے سے منکر ہیں۔ یہ وزیر تعلیم کے لئے بہت بڑا چیلینج ہے۔ جس کے لئے ایک جامع حکمت عملی بنانی پڑے گی۔
وزیر تعلیم کا یہ احسن فیصلہ ہے جس کی ہم حمایت کرتے ہیں اور مشورہ دیتے ہین کہ کراچی سے لیکر کشمور تک سندھی زبان لازمی طور پر پڑھانے کو یقینی بنانے کے لئے متحرک کمیٹیاں تشکیل دی جائیں ، جو مختلف وقت پر معائنہ کر کے بتائیں کہ محکمہ تعلیم کی ان ہدیات پر کتنا موثر انداز میں عمل درآمد کیا جارہا ہے؟
سندھ کی زراعت کو بچانے کے لئے چند تجاویز کے عنوان سے روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ گزشتہ چند عشروں سے سندھ کی زراعت بحران کی لپیٹ میں ہے۔ حکومت کی جانب سے اس بحران سے نمٹنے کے لئے موثر انداز میں نمٹنے کا بحران بھی شدید شکل میں موجود ہے۔ پانی کی قلت سندھ میں زراعت کی تباہی کا واحد سبب نہیں۔ بلکہ جو پانی ملتا ہے، اس کی بہتر ریگیولیشن نہ ہونا، پانی کی چوری، آباشی افسران کی جانب سے پانی کی فروخت، نقلی بیج، کھاد، جراثیم کش ادویات، زراعت کا موسمیاتی تبدیلیوں اور بدلتے ہوئے ماحول سے ہم آہنگ نہ ہوا، محکمہ زراعت حکومت کی ترجیح نہ ہونا، کاشتکاروں کو پیداوار کی مناسب قیمت نہ ملنا، منصوبے کے تحت صوبے میں گنے کے بیلٹ کی تباہی، عوام کے پیسے پر بوجھ بنے ہوئے کرپشن اور غیر فعال تحقیقی ادارے، سمیت متعدد عناصر ہیں جو مل کر سندھ کی زراعت کو تباہ کر چکے ہیں۔ اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ زراعت کے اصلاح احوال نہ کرنے کے نتیجے میں غربت اور پسماندگی نے صوبے کو اپنی آماجگاہ بنا لی ہے۔ سندھ کا زمیندار طبقہ اقتدار میں شراکت کے ذریعے اپنا حصہ وصول کر لیتا ہے۔ لیکن چھوٹے کاشتکار اور کسان کے جینے کا ذریعہ زراعت ہی ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں زرعی پالیسی کا اعلان کیا گیا، اس پالیسی میں بھی کئی نقائص اور جھول تھے۔ جن کو درست کر کے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس ضمن میں نہ گزشتہ حکومت نے کوشش کی اور نہ موجودہ حکومت کچھ کرنے کے لئے سنیجدہ ہے۔
سندھ میں زرعی تحقیق کے لئے قائم متعدد اداروں کی غیر فعالیت اور تباہی خود تحقیق طلب موضوع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تحقیق کو عام کرنے کے لئے زرعی توسیع کا ادارہ وجود رکھتا ہے۔ اس کی کارکردگی پرھنے کے لء مایکرواسکوپ کی ضرورت پڑے گی۔ زرعی انجنیئرنگ کا ادارہ بھی صرف کاغذوں پر موجود ہے۔ یہ ادارے کرپشن کی لپیٹ میں ہونے کی وجہ سے بھی سندھ کے عوام کے لئے بے مقصد بن گئے ہیں۔ صوبے میں پنگریو ، سکرنڈ، سیٹھارجا، اڈیرولال، ڈیٹ فارم کوٹ ڈیجی، رائیس فارم ڈوکری، سمیت متعدد سیڈ فارم موجود جن پر اب ناجائز قبضے ہو چکے ہیں۔ اندارے پر یہ قبضے ختم کراکر عوام کے لئے بامقصد بنانے کی ضرورت ہے۔
زراعت کی تباہی کی ایک وجہ نقلی بیج، کھاد اور جراثیم کش ادویات بھی ہے۔ نقلی بیج کمپنیاں پیسوں سے رجسٹر ہو جاتی ہیں۔ ان پر کوئی نظرداری کرنے والا موجود نہیں۔ سندھ سیڈ کارپوریشن غیر فعال ہے۔ دنیا میں زرعی ادارے اپنی زراعت کو موسمیاتی و ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ لیکن ہمارے اداروں کو کچوئی پروہ ہی نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سندھ کی زراعت کو نمائشی اقداما تکے بجائے جدید سائنسی طریقے اختیار کرتے ہوئے حقیقی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
Sindh Nama - Soahil Sangi - Nai Baat - Sep 29, 2018

Wednesday, September 12, 2018

یہ رہا سندھ کی مثالی حکمرانی کا ماڈل



سندھ کابینہ میں چار مزید وزراء کا اضافہ ہو گیا ہے۔ ان میں ریٹائرڈسینئر بیوروکریٹ امتیاز شیخ، ناصر حسین شاہ، مکیش چاولہ اور فدا ڈیرو شامل ہیں۔’ مکیش چاولہکا تعلق جیکب آباد سے ہے ۔ ان کے پاس گزشتہ نو سال تک ایکسائیز اینڈ ٹیکسیشن کا قلمدان ہی رہا ہے۔ ان کی ہمشیرہ رتنا چاولہ سینیٹ کی رکن رہی ہیں۔پیپلزپارٹی کے سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن کرپشن کے الزامات کا سامنا کررہے ہیں اور قید ہیں۔ 
سندھ کے کاشتکاروں کو گنے کی رقم نہ ادا ہونے کاسپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھا اور کاشتکاروں کو رقم ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اور بقایاجات ادا نہ کرنے والی شگر ملز کے خلاف مقدمہ داخل کرنے کے لئے کین کمشنر سندھ کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس ضمن میں کاشتکاروں کو مقدمہ دائر کرنے کے لئے اتھارٹی دیں۔ لیکن کین کمشنر نے کاشت کاروں کو مقدمہ درج کرانے کے لئے اتھارٹی لیٹر دینے سے انکار کردیا ہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ضیاء الدین ہسپتال میں ان کے کمرے پرچھاپہ مار کر مبنیہ طور پر شراب برآمد کی ۔ لیکن لیبارٹری ٹیسٹ اور قیدی کے خون سے شراب کے اجزاء کی علامات نہیں ملی۔ یہ معاملہ بھی میڈیا اور عوامی حلقوں میں زیر بحث ہے۔
’ ’لال بتی حیدرآباد نے لوگوں کا مرنا بھی مشکل کردیا ‘‘ کے عنوان سے ’’ روز نامہ کاوش‘‘ اداریئے میں لکھتا ہے تکالیف، کمزوریوں اور بے بسی میں گھرے ہوئے غریب لوگوں کا سندھ میں جینا مشکل ہی ہے، لیکن اب تو موت نے بھی مسائل پیدا کرنا شروع کردیئے ہیں۔ وہ لوگ جو زندگی سے تنگ آکر اس امید پر اپنی زندگی کا خاتمہ کرتے ہیں کہ انہیں مسائل سے نجات مل جائے گی، سندھ میں مرنے کے بعد بھی مسائل ان کی جان نہیں چھوڑتے۔ حکمرانوں کے دعوؤں اور لوگوں کے مسائل کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ ثابت کرتی ہے کہ کہنے کے لئے ملک میں جمہوری حکومت ہے مگر دراصل یہخاص لوگوں کی حکومت ہے۔ اس حکومت کا عام لوگوں سے لینا دینا نہیں۔ بھلا ایسی حکومت کیسے عوامی کہلائے گی؟ جو لوگ اپنے پیاروں کو کسی ایمرجنسی میں دیہی علاقوں میں ہسپتال لے جاتے ہیں، جہاں انہیں دلجوئی کے بجائے مزید تکلیف کے ساتھ مایوسی ملتی ہے۔ صوبے کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کا سول ہسپتال عرف عام ’’ لال بتی‘‘ میں تقریبا سندھ بھر سے ایمرجنسی کیسز آتے ہیں۔ اس ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کے لئے اگر لیڈی ایل ایم او موجود نہ ہونے کی وجہ سے کسی عورت کی لاش حیدرآباد سے کوٹری گیارہ گھنٹے تک التی رہے، اس سے بڑھ کر حکمرانوں اور افسران کی بی حسی کیا ہوگی؟ یہصرف ایک دن کی بات نہیں اور نہ ہی صرف ایک خبر ہے۔ سندھ بھر سے روزانہ سرکاری ہسپتالوں سے ایسی خبریں آتی ہیں, جو دکھ کی کہانی نہیں بلکہ داستان ہیں۔ دکھ کی یہ داستانیں تاحال حاکم وقت کے دل کو جھنجھوڑ نہیں سکی ہیں۔ نسیم نگر حیدرآباد تھانہ کی حد میں گوٹھ دریا خان چانڈیو کی اٹھارہ سالہ عائشہ پراسرار حالات میں دریا میں ڈوب کر فوت ہو گئی۔ پولیس کیس ہونے کی وجہ سے اس کی لاش گیارہ گھنٹے تک حیدرآباد اور کوٹری لائی جاتی رہی۔ لیکن لیڈی ایل ایم او نہ ہونے کی وجہ سے اس کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا جاسکا۔ لال بتی کی ایل ایم او چھٹی پر تھی، کوٹری کی میڈیکو لیگل افسر ڈیوٹی پر موجود نہیں تھی۔ یہ ہے سندھ کی مثالی حکمرانی کا ماڈل ، جس کے تجربے سے سندھ کے لوگ روزانہ گزرتے ہیں۔ حکمرانوں کو اس خراب حکمرانی کا نہ احساس ہے، نہ ہی وہ عوام کی بات ماننے اور سننے کو تیار ہیں کہ سندھ میں مسائل خراب حکمرانی کی وجہ سے ہیں۔
سرکاری ہسپتالوں میں ایم ایس اور دیگر انتظامی عہدوں پر سیاسی اثر رسوخ رکھنے والے ڈاکٹر تعینات ہیں۔ ان سے محکمہ کا سیکریٹری یا ڈائریکٹر تو چھوڑیئے وزیر بھی پوچھ نہیں سکتا۔ اگر نچلی سطح پر دیکھا جائے، ڈاکٹر بھی اتنی ر سائی والے ہیں کہ ان سے نہ شفٹ انچارج اور میڈیکل سپرنٹینڈنٹ پوچھنے کا حق رکھتا ہے۔ بدانتظامی سندھ میں اپنی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے۔ انتظام اتنا خراب ہو چکا ہے کہ اب اکثر لوگ اس کی بہتری سے ناامید ہوچکے ہیں۔ جو لوگ بحالت مجبوری سرکاری ہسپتال جاتے ہیں، ان سے ہسپتال کے ڈاکٹر اور عملہ ایسا سلوک کرتا ہے کہ وہ مرض کی تکلیف بھول جاتے ہیں۔اور انہیں ڈاکٹروں اور عملہ کا ناروا سلوک ہی یاد رہتا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں سے ایک سرنج سے لیکر معمولی ٹیسٹ اور ایکسرے تک اتنا دوڑایا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں بھی سرکاری ہسپتال آنے کی جرأت ہی نہیں کرتے۔ سندھ کے سرکاری ہسپتال کسی طور پر بھی ایسے نہیں کہ لوگ اعتماد کے ساتھ علاج کرانے کے لئے آئیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں زیادہ تر وہ لوگ آتے ہیں جو نجی ہسپتالوں کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ ہمارے صوبے کے سرکاری ہسپتال اس طبقے کے لئے ہیں جس کی آواز اور چیخ پکار کوئی نہییں سنتا۔
سندھ میں محکمہ صحت کا قلمدان اچھی شہرت رکھنے والی خاتون کے پاس ہے۔ اگر وہ چاہیں تو اپنے دور میں اس بیمار محکمہ میں کچھ نہ کچھ بہتری ضرور لا سکتی ہیں۔اس ضمن میں اولین شرط پوچھنے کی ہے۔
’’ حکمرانوں کی لاتعلقی کا شکار روڈ حادثوں کے متاثرین ‘‘کے عنوان سے روز نامہ سندھ ایکسپریس لکھتا ہے کہ جامشورو سے سہون تک انڈس ہائی وے اب موت کا گھاٹ بن چکا ہے۔ آئے دن کوئی ایسا حادثہ ہوتا ہے جس میں درجنوں جانیں ضایع ہو جاتی ہیں۔ اب تک پیش آنے والے واقعات میں ایک ہی خاندان کے دس سے دو تک افراد اجل کا شکار ہو چکے ہیں۔ باقی واقعات میں بھی سینکڑوں انسانی جانیں جا چکی ہیں۔ جمعہ کے روز تھرمل پاور کے پاس پیش آنے والے حادثے میں ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد جاں بحق ہو گئے۔ ان میں سات افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ایک زخمی نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔ تین زخمی ابھی تک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ایسے واقعات اب معمول بن چکے ہیں۔ لیکن حکمران ذرا بھی توہ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ سندھ حکومت ترقی کے بڑے بڑے دعوے کرتی رہتی ہے لیکن ابھی تک انڈس ہائی وے کو ڈبل روڈ نہیں کر سکی ہے۔ جبکہ انڈس ہائی وے پر پیش آنے والے واقعات کی وجہ اس روڈ کا سنگل ہونا ہے۔ یہ حکمرانوں کی غفلت ہے یا لاپروائی کہ شاہراہ کا وہ حصہ جو سینکڑوں انسانی جانیں نگل چکا ہے وہاں اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ہم کیسے مانیں کہ لوگ حادثات کا شکار ہو رہے ہیں؟ دراصل یہ لوگ تو حکمرانوں کی غفلت، لاپروائی اور عوام سے لاتعلقی کا شکار ہو رہے ہیں۔ حادثات میں جاں بحق ہونے والے لوگوں کی موت کے اصل ذمہ دار حکمران ہی ہیں، جو روڈ کی تعمیر نہیں کرسکے ہیں۔ اس سے لگتا ہے کہ حکمرانوں کے نزدیک عوام کی زندگی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اگر واقعی کوئی معنی رکھتی تو کیا لوگ یوں مرتے رہتے اور حکومت خاموش رہتی؟


http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-sep-8-2018-178524